16

پا کستان میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام


مو جو دہ حکومت نے RERA(رئیل اسٹیٹ ریگولیڑی اتھارٹی)بنانے کااعلان کیا ہے
٭……وطن عزیز میں 2013ء میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور قانون سازی ہوئی 2015میں اس ACT میں ترامیم کی گئی 2017/18میں مزید نظر ثانی کی گئی اور ریگولیشن اینڈ ڈویلپمنٹACT کی ترامیم کے ساتھ جاری کیا گیا لیکن ابھی تک عملی طور پر اتھارٹی کا آغاز نہ ہو سکا اور نہ ہی رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی شروع ہوئی۔ اور رئیل اسٹیٹ بزنس اورڈویلپمنٹ سیکٹر اور اس سے منسلک انڈسٹریز روز بروز بحران کا شکار ہوتی گئی
اس لئے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لئے ہنگامی بنیاد وں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ٹیکسوں میں کمی اور سہولیات فراہم کر کے تباہ حال بزنس کو فوری طور پر بحال کیا جا سکتا ہے۔
٭……RERAایک الگ خو دمختیار ادارہ ہو گا جس کی چیئر مین سمیت ورکینگ باڈی بنائی جائے گی،جو کہ خوش آئند ہے جس کے تحت ایکTribunal بھی قائم کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد اور کام کرنے کا طریقہ درج ذیل ہو گا۔Real Estate Sector))کے Disputes کو حل کرنے اور Affairsکو منظم کرنے کے لئے پالیسی میکینگ کی جا رہی ہے منظم اور مر بوط چیک اینڈ بیلنس کا نظام بنا یا جا رہا ہے تاکہ خرید وفروخت میں ہونے والی بے ضا بطگیو ں پر قابو پایا جا سکے اور تم Buildings / Plots / Property اور سو سائٹیز، Authortiesکو (RERA)کے تحت Registerted کیا جائے گااور اُن کےپو زیشن(Possession)اور Ownership کا Certificate بمہ Possession خریدار کو حکومت پاکستان جا ری کرے گی،جس کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹیز اتھارٹیز صرف Possessioned اور موقع پر موجود پراپرٹی ہی فروخت کر سکیں گی رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک تمام افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طرح مختلف سوسائٹیز میں ہونیوالی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔Rented Property کی صورت میں قبضہ کے کلچر کا خاتمہ ہو جائے گا اور تمام خریدار بلا خوف پراپرٹی خرید سکیں گے مثال کے طور پر بینکنگ سیکٹر کی طرز پر ایک خاص ضا بط کے تحت مربوط Check & Balance کا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے سول کورٹ،سیشن کورٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹرسے منسلک زیرالتوا مقد ما ت کوٹربیونل کے ذریعے بھی فوری حل کیا جائے گارئیل اسٹیٹ بزنس اور ڈویلپمنٹ سے منسلک کسی بھی کار کن یا ادارے کو Dispute کی صورت میں Tribunal درخواست وصول کرے گا اوریہی Tribunal تین سے سات یوم کے اندر فیصلہ کریگااورTribunalمیں ہی دوبارہ فریقین اپیل کی سکیں گے،جو چند یوم میں فیصلہ کرے گا پھر اس کی پٹیشن (Patison)اپیل ہائی کورٹ میں کی جا سکے گی اورہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی صورت میں قانون سازی کی جائے گی اور 6ہفتوں کے اندر اس کا فیصلہ کرے گا۔ اس قانون سازی سے ملکی معشیت اور رئیل اسٹیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور قبضہ کلچر کا تقر یباََخاتمہ ہو جائے گا اور اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانی Real Estate بزنس اورDevelopment سیکٹر میں Investmentکریں گے۔جس کی و جہ سے سرمایہ کا ر اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو گا ملکی اور غیر ملکی اداروں کو مراعات تر غیبات اور آسانیاں پیدا کر کے اور Ownership کو تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا جس سے رئیل اسٹیٹ بزنس بحال ہو گا اور وطن ِ عزیز میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا حکومتِ وقت کی طرف سے رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک افراد،اداروں کورجسٹرڈ کیا جا رہا ہے اور منظم اور مربوط چیک اینڈ بیلنس کا نظام ترتیب دیا جا رہا ہے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو اس کے تحت رجسٹر ڈ کیا جائے گا اور تمام Transacation ریکارڈڈ (Recorded)ہو نگی اور کسی بھی Violation کی صورت میں انکا Licence منسو خ کیا جائے گا مذکورہ Ordinance بنیادی طور پر ایک Demoہے اور اس کے منفی یا مثبت اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور صدارتیOrdinance تقریباََتین ماہ تک نافز العمل ہو گا اُس کے بعد نیشنل اسمبلی اور Senate سے منظور کروایا جائے گا اوراس دوران حکومتِ وقت کی طرف سے مقررکردہ تجربہ کا ر پالیسی میکرز کے ذریعے لا بنگ کی جائے گی تمام رئیل اسٹیٹ ایجنٹس ،ڈویلپمنٹ سیکٹر،اسٹیک ہولڈرز،ہاؤسنگ اتھارٹیز،ہاؤسنگ سوسائٹیزاور ڈویلپرزکی مشاورت سے بزنس کی بحالی کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا یہ Ordinance ایک بنیادی ڈھانچہ ہے اور تمام قوانینDevelopment سیکٹر اور رئیل اسٹیٹ افراد سے مشاورت کے بعدٹیکسوں میں کمی مراعات ترغیبات سہولیات اور آسانیاں پیداکر کے کاروباری سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکے۔
٭…… حکومت وقت کی طرف سے مقرر کردہ ذمہ داران سے رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی کے لئے درجہ ذیل تجاویزدی گئی ہیں رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک افراد اور اداروں کے فرائض کے ساتھ اُن کے حقو ق کاتحفظ بھی کیا جائے۔
٭……بیرون ملک کے انویسٹر ڈویلپمنٹ سے منسلک ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دو ممالک کے درمیان معاہدے کرتے وقت انٹر نیشنل لاء کو مدنظر رکھا جائے۔اور اعتماد کو بحا ل کرنے کے لئے اور تنازعات کے حل کے لئے انٹر نیشنل کورٹس قائم کی جائیں۔ملیشیاء و دیگر ممالک نے اس طریقہ سے ترقی کی۔رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے کمیشن کی حد مقرر کی جائے اور پراپرٹی فروخت کی صورت میں فروخت کنندہ 2فیصد اور پراپرٹی خرید کی صورت میں خرید کنندہ 2فیصد کمیشن ادا کرے اور خریدو فروخت کی مجموعی کمیشن ٹرانزکشن کی صورت میں 4فیصد مقرر کی جائے۔جبکہ بیرون 5%سے10%فیصد ڈیل کی کمیشن مقررہے۔بنیادی طور پر RERA کا قانونی تعمیرات کے شعبے کو Addressکرتا دکھائی دیتا ہے لیکن رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لئے قانون سازی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے یہ قانون نا مکمل سا محسوس ہوتا ہے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو ذمہ داریوں کے ساتھ تحفظ بھی فرہم کیاجائے اوررئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے رجسٹریشن نمبر کے ساتھ اس کے NOC کو ضروری قرار دیا جائے اور آفیشل کمیشن کے پے آرڈر کی کاپی کوDocumentationکا حصہ بنایا جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ ادارے کو ابتدائی طور پررجسٹریشن فیس سے اثتثنٰی قرار دیاجائے کیوں کہ رئیل اسٹیٹ کے ادارے پہلے سے ہی مختلف رجسٹریشن اتھارٹیز میں رجسٹرڈ ہیں اور بھاری فیس دے رہے ہیں۔
٭……وفاقی ادارے FBR کی جانب سے ٹرانسفر ٹیکس کی مجموعی ریشو ایک فیصد اور صوبائی حکومت کی جانب سےاشٹامپ ڈیوٹی / CVT کی ریشو کو 2% مقرر کیا جائے اور تمام صوبوں میں یکساں قوانین اور ٹیکسیزکانظام مقرر کی جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی ممکن ہو سکے اور ہر صوبے میں یکساں نظام قائم ہو۔
٭…… پالیسی میکینگ کرتے ہو ئے Nationalized سسٹم جو کم ازکم تین سال کے لئے ہو پالیسی بنائی جائے اور تین سال کے لئے ہی ٹیکس نظام اور FBR کے ریٹس اور DC ریٹس کو برقرار رکھا جائے۔
٭……وطنِ عزیزمیں 2013میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی بنیا د رکھی گئی اور قانون سازی ہوئی 2015 میں اس Act میں ترامیم کی گئی 2017/2018 میں مزید نظر ثانی کی گئی اور ریگولیشن اورDevelpment ایکٹ ترامیم کے ساتھ جاری کیا گیا لیکن ابھی تک عملی طورپر رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کاآغازنہیں ہو سکا فوری طور پر ٹیکسوں میں کمی اور سہولیات فراہم کر کے تباہ حال بزنس کو فوری طور پر بحال کیا جا سکتا ہے۔
٭……اورسیز پاکستانیوں کو خصوصی اہمیت اور سہولیات دے کررئیل اسٹیٹ سکیٹر میں انویسٹمنٹ پر راغب کیا جا سکتا ہے اورRemittances کو لانے میں آسان قوانین مرتب کیے جائیں۔جوکہ پہلے ہی بہت Complicated ہیں۔حکومت وقت سے اسی حوالے سے بہت اہم نتیجہ خیز اور مثبت پیش رفت ہو رہی ہے حکومت وقت نے ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور عملی طور پر بزنس کی بحال کے لئے ٹیکسوں میں کمی کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے حکومت کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ اقدام یقینی طور پر قابل ستائش ہے۔
اورسیز پاکستانی جو پراپرٹی کی خریدیا ڈویلپمنٹ سیکٹر میں باہر سے فارن اکاؤنٹ میں(Payment) اور Remittances بنکینگ چینل کے ذریعہ بھیجتے ہیں،اُن کو ٹرانسفر ٹیکسز سے مثتثنٰی قرار دیا جائے،جس سے یقیناحکومت کے ریونیو میں آضافہ ہو گا اورملک معیشت مضبوط ہو گی۔

مو جو دہ حکومت نے RERA(رئیل اسٹیٹ ریگولیڑی اتھارٹی)بنانے کااعلان کیا ہے
٭……وطن عزیز میں 2013ء میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور قانون سازی ہوئی 2015میں اس ACT میں ترامیم کی گئی 2017/18میں مزید نظر ثانی کی گئی اور ریگولیشن اینڈ ڈویلپمنٹACT کی ترامیم کے ساتھ جاری کیا گیا لیکن ابھی تک عملی طور پر اتھارٹی کا آغاز نہ ہو سکا اور نہ ہی رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی شروع ہوئی۔ اور رئیل اسٹیٹ بزنس اورڈویلپمنٹ سیکٹر اور اس سے منسلک انڈسٹریز روز بروز بحران کا شکار ہوتی گئی
اس لئے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لئے ہنگامی بنیاد وں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ٹیکسوں میں کمی اور سہولیات فراہم کر کے تباہ حال بزنس کو فوری طور پر بحال کیا جا سکتا ہے۔
٭……RERAایک الگ خو دمختیار ادارہ ہو گا جس کی چیئر مین سمیت ورکینگ باڈی بنائی جائے گی،جو کہ خوش آئند ہے جس کے تحت ایکTribunal بھی قائم کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد اور کام کرنے کا طریقہ درج ذیل ہو گا۔Real Estate Sector))کے Disputes کو حل کرنے اور Affairsکو منظم کرنے کے لئے پالیسی میکینگ کی جا رہی ہے منظم اور مر بوط چیک اینڈ بیلنس کا نظام بنا یا جا رہا ہے تاکہ خرید وفروخت میں ہونے والی بے ضا بطگیو ں پر قابو پایا جا سکے اور تم Buildings / Plots / Property اور سو سائٹیز، Authortiesکو (RERA)کے تحت Registerted کیا جائے گااور اُن کےپو زیشن(Possession)اور Ownership کا Certificate بمہ Possession خریدار کو حکومت پاکستان جا ری کرے گی،جس کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹیز اتھارٹیز صرف Possessioned اور موقع پر موجود پراپرٹی ہی فروخت کر سکیں گی رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک تمام افراد اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طرح مختلف سوسائٹیز میں ہونیوالی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔Rented Property کی صورت میں قبضہ کے کلچر کا خاتمہ ہو جائے گا اور تمام خریدار بلا خوف پراپرٹی خرید سکیں گے مثال کے طور پر بینکنگ سیکٹر کی طرز پر ایک خاص ضا بط کے تحت مربوط Check & Balance کا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے سول کورٹ،سیشن کورٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹرسے منسلک زیرالتوا مقد ما ت کوٹربیونل کے ذریعے بھی فوری حل کیا جائے گارئیل اسٹیٹ بزنس اور ڈویلپمنٹ سے منسلک کسی بھی کار کن یا ادارے کو Dispute کی صورت میں Tribunal درخواست وصول کرے گا اوریہی Tribunal تین سے سات یوم کے اندر فیصلہ کریگااورTribunalمیں ہی دوبارہ فریقین اپیل کی سکیں گے،جو چند یوم میں فیصلہ کرے گا پھر اس کی پٹیشن (Patison)اپیل ہائی کورٹ میں کی جا سکے گی اورہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی صورت میں قانون سازی کی جائے گی اور 6ہفتوں کے اندر اس کا فیصلہ کرے گا۔ اس قانون سازی سے ملکی معشیت اور رئیل اسٹیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور قبضہ کلچر کا تقر یباََخاتمہ ہو جائے گا اور اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانی Real Estate بزنس اورDevelopment سیکٹر میں Investmentکریں گے۔جس کی و جہ سے سرمایہ کا ر اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو گا ملکی اور غیر ملکی اداروں کو مراعات تر غیبات اور آسانیاں پیدا کر کے اور Ownership کو تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا جس سے رئیل اسٹیٹ بزنس بحال ہو گا اور وطن ِ عزیز میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا حکومتِ وقت کی طرف سے رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک افراد،اداروں کورجسٹرڈ کیا جا رہا ہے اور منظم اور مربوط چیک اینڈ بیلنس کا نظام ترتیب دیا جا رہا ہے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو اس کے تحت رجسٹر ڈ کیا جائے گا اور تمام Transacation ریکارڈڈ (Recorded)ہو نگی اور کسی بھی Violation کی صورت میں انکا Licence منسو خ کیا جائے گا مذکورہ Ordinance بنیادی طور پر ایک Demoہے اور اس کے منفی یا مثبت اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور صدارتیOrdinance تقریباََتین ماہ تک نافز العمل ہو گا اُس کے بعد نیشنل اسمبلی اور Senate سے منظور کروایا جائے گا اوراس دوران حکومتِ وقت کی طرف سے مقررکردہ تجربہ کا ر پالیسی میکرز کے ذریعے لا بنگ کی جائے گی تمام رئیل اسٹیٹ ایجنٹس ،ڈویلپمنٹ سیکٹر،اسٹیک ہولڈرز،ہاؤسنگ اتھارٹیز،ہاؤسنگ سوسائٹیزاور ڈویلپرزکی مشاورت سے بزنس کی بحالی کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا یہ Ordinance ایک بنیادی ڈھانچہ ہے اور تمام قوانینDevelopment سیکٹر اور رئیل اسٹیٹ افراد سے مشاورت کے بعدٹیکسوں میں کمی مراعات ترغیبات سہولیات اور آسانیاں پیداکر کے کاروباری سرگرمیوں کو بحال کیا جاسکے۔
٭…… حکومت وقت کی طرف سے مقرر کردہ ذمہ داران سے رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی کے لئے درجہ ذیل تجاویزدی گئی ہیں رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک افراد اور اداروں کے فرائض کے ساتھ اُن کے حقو ق کاتحفظ بھی کیا جائے۔
٭……بیرون ملک کے انویسٹر ڈویلپمنٹ سے منسلک ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دو ممالک کے درمیان معاہدے کرتے وقت انٹر نیشنل لاء کو مدنظر رکھا جائے۔اور اعتماد کو بحا ل کرنے کے لئے اور تنازعات کے حل کے لئے انٹر نیشنل کورٹس قائم کی جائیں۔ملیشیاء و دیگر ممالک نے اس طریقہ سے ترقی کی۔رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے کمیشن کی حد مقرر کی جائے اور پراپرٹی فروخت کی صورت میں فروخت کنندہ 2فیصد اور پراپرٹی خرید کی صورت میں خرید کنندہ 2فیصد کمیشن ادا کرے اور خریدو فروخت کی مجموعی کمیشن ٹرانزکشن کی صورت میں 4فیصد مقرر کی جائے۔جبکہ بیرون 5%سے10%فیصد ڈیل کی کمیشن مقررہے۔بنیادی طور پر RERA کا قانونی تعمیرات کے شعبے کو Addressکرتا دکھائی دیتا ہے لیکن رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے لئے قانون سازی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے یہ قانون نا مکمل سا محسوس ہوتا ہے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو ذمہ داریوں کے ساتھ تحفظ بھی فرہم کیاجائے اوررئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے رجسٹریشن نمبر کے ساتھ اس کے NOC کو ضروری قرار دیا جائے اور آفیشل کمیشن کے پے آرڈر کی کاپی کوDocumentationکا حصہ بنایا جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ ادارے کو ابتدائی طور پررجسٹریشن فیس سے اثتثنٰی قرار دیاجائے کیوں کہ رئیل اسٹیٹ کے ادارے پہلے سے ہی مختلف رجسٹریشن اتھارٹیز میں رجسٹرڈ ہیں اور بھاری فیس دے رہے ہیں۔
٭……وفاقی ادارے FBR کی جانب سے ٹرانسفر ٹیکس کی مجموعی ریشو ایک فیصد اور صوبائی حکومت کی جانب سےاشٹامپ ڈیوٹی / CVT کی ریشو کو 2% مقرر کیا جائے اور تمام صوبوں میں یکساں قوانین اور ٹیکسیزکانظام مقرر کی جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی ممکن ہو سکے اور ہر صوبے میں یکساں نظام قائم ہو۔
٭…… پالیسی میکینگ کرتے ہو ئے Nationalized سسٹم جو کم ازکم تین سال کے لئے ہو پالیسی بنائی جائے اور تین سال کے لئے ہی ٹیکس نظام اور FBR کے ریٹس اور DC ریٹس کو برقرار رکھا جائے۔
٭……وطنِ عزیزمیں 2013میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی بنیا د رکھی گئی اور قانون سازی ہوئی 2015 میں اس Act میں ترامیم کی گئی 2017/2018 میں مزید نظر ثانی کی گئی اور ریگولیشن اورDevelpment ایکٹ ترامیم کے ساتھ جاری کیا گیا لیکن ابھی تک عملی طورپر رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کاآغازنہیں ہو سکا فوری طور پر ٹیکسوں میں کمی اور سہولیات فراہم کر کے تباہ حال بزنس کو فوری طور پر بحال کیا جا سکتا ہے۔
٭……اورسیز پاکستانیوں کو خصوصی اہمیت اور سہولیات دے کررئیل اسٹیٹ سکیٹر میں انویسٹمنٹ پر راغب کیا جا سکتا ہے اورRemittances کو لانے میں آسان قوانین مرتب کیے جائیں۔جوکہ پہلے ہی بہت Complicated ہیں۔حکومت وقت سے اسی حوالے سے بہت اہم نتیجہ خیز اور مثبت پیش رفت ہو رہی ہے حکومت وقت نے ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور عملی طور پر بزنس کی بحال کے لئے ٹیکسوں میں کمی کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے حکومت کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ اقدام یقینی طور پر قابل ستائش ہے۔
اورسیز پاکستانی جو پراپرٹی کی خریدیا ڈویلپمنٹ سیکٹر میں باہر سے فارن اکاؤنٹ میں(Payment) اور Remittances بنکینگ چینل کے ذریعہ بھیجتے ہیں،اُن کو ٹرانسفر ٹیکسز سے مثتثنٰی قرار دیا جائے،جس سے یقیناحکومت کے ریونیو میں آضافہ ہو گا اورملک معیشت مضبوط ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں