36

منی لانڈرینگ ایکٹ، رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے تحفظات آور ایسوسی ایشن کی خاموشی-


حکومت وقت نے جو اینٹی منی لانڈرینگ ایکٹ پاس کیا ہے اور SRO جاری کیا ہے اس کے متابق کرپشن، منی لانڈرینگ سے پراپرٹی کی خریدای کی صورت میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو بھی ملوث سمجھا جائے گا کوئی بھی کلائنٹ جب پراپرٹی خریدنے کے لئے آئے تو رئیل اسٹیٹ ایجنٹس انویٹیگیشن کریں گے کہ خریدار کے پاس پیسہ منی لانڈرینگ، کرپشن، غير قانونی طور پر حاصل کیا گیا ہے یا نہیں
کلائنٹ کی مخبری کا کام کریں سب ٹرانزیکشن کا ریکارڈ رکھنا پڑے گا آور حکومتی ادارے پانچ سال تک انویسٹی گیٹ کر سکیں گے
اس قانون میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو شامل کرنے کی وجہ سے بزنس پر منفی اثرات مرتب ہو نگے اور رئیل اسٹیٹ بزنس بحالی کی کوششوں رکاوٹ آئیں گی کیونکہ یہ معاملہ زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے آپ جانتے ہیں کہ DC ریٹس FBR ریٹس آور مارکیٹ الگ الگ ہیں اور حکومت بینکوں اور اداروں کا کام ہم سے لینا چاہ رہی ہے
رئیل اسٹیٹ کاکاروبار پجھلے چار سال سے حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بحران کا شکار تھا اب حکومت کی جانب سے ٹیکس اصلاحات اور ٹیکسوں میں کمی اور سہولیات فراہم کر نے کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی شروع ہو ئی آور رئیل اسٹیٹ بزنس اور اس سے منسلک ستر سے زائد انڈسٹریز آور کنسٹرکشن انڈسٹری اور تعمیراتی سیکٹر بحال ہونا شروع ہوگئی تھی کہ حکومت نے اسٹیٹ ایجنٹس اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر اس قسم کے منفی اقدامات کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ بزنس کو تباہ کرنے کی سازش ہے آور سلسلے میں ہماری کمیونٹی اورایسوسی کی خاموشی اختیار کر نا سمجھ سے بالاتر ہے
معیشت کی مضبوطی بحالی اور ریونیو میں اضافے میں رئیل اسٹیٹ بزنس کو ایک خاص مقام حاصل ہے ٹرایکشن والیم بڑھنے کی وجہ سے حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے اور عالمی سطح پر معیشت کی مضبوطی اور حکومت کی نیک نامی کاباعث ہوتا ہے حکومت کو چاہیئے کہ اس منی لانڈرینگ ایکٹ میں ترامیم کرے آور رئیل اسٹیٹ، کنسٹرکشن انڈسٹری اور تعمیراتی سیکٹر کو جو سہولیات دسمبر 2020 تک دی گئی ہیں ان کو مزید ایک سال کے لیے جاری رکھا جائے، آور بزنس کمیونٹی کو اداروں کی جانب سے ہراساں نہ کیا جائے اور ٹیکس آڈٹ مزید ایک سال کے لیے ملتوی کیا جائے کیونکہ حکومت اوربزنس کمیونٹی مل کر ہی معاشی استحکام لا سکتے ہیں
زاہد بن صادق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں