22

حضرت عمر فاروقِ اعظمؓ کے دور میں قانون سازی کنسٹرکشن تعمیرات ٹاؤن پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کا نظام

فاروقِ اعظم کے دور میں کنسٹرکشن تعمیرات ٹاؤن پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کا نظام
خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی اسلام کے لئے روشن خدمات، جُرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے۔یہ اعزاز خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ہے کہ انہوں نے آدھی دنیا کو فتح کیا اور نئے علاقے آباد کیے، ان کی تعمیر شروع کی۔
٭۔۔۔۔۔آبادی اور رقبے کے کے لحاظ سے گاؤں، قصبے، ٹاؤن، شہر، ممالک کو صوبوں میں تبدیل کر نا، تعمیرات، ٹاؤن پلاننگ، ڈویلپمنٹ کے قواعد وضوابط، آباد کاری.،کنسٹرکشن کے رولز، پیمائش کا نظام۔
٭۔۔۔۔۔مسافر خانے، آرام گاہیں، نہری نظام کی بنیاد، خوراک کی پیداوار میں اضافہ، زراعت کی ترقی، لائیو سٹاک کے تحفظ اور بقا کے لیے پانی کی محفوظ ترسیل کا بندوبست کیا۔ زرعی زمینوں کی آباد کاری کے لیے نہری نظام کا قیام، بصرہ کے لوگوں نے پانی کی قلت کی شکایت کی تو آپ نے ابو موسیٰ الاشعری کو تحریر ی حکم بھیج کر دجلہ سے بصرہ تک 9 میل لمبی نہر کھدوائی۔ اس کے علاوہ نہرِ معقّل، نہرِ سعد اور نہرِ امیرالمومنین بہت مشہور ہیں۔ نہر امیرالمومنین کے ذریعہ دریائے نیل کو بحرِ قلزم سے ملایا گیا تھا اور اس نہر کی لمبائی 69 میل تھی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی نہر صرف چھ ماہ کے عرصے میں مکمل ہوگئی تھی۔
ڈویلپمنٹ اور ٹاؤن پلاننگ
آپ کے دور میں تعمیرات اور ٹاؤن پلاننگ کا نظام بنایا گیا
تفصیلات کے مطابق تمام گھروں کا لیول ایک ہونا چاہیے
اورگھر کا دروازہ بڑا ہونا تاکہ جنازہ کی چارپائی با آسانی نکالی جا سکے۔
آپ کے زمانے میں جنازوں کی مثال دے کر گاؤں،قصبے ٹاؤن،شہر وں کی مین شا ہراہ کا سائز تعین کیا گیا اس کے مطابق عام گلی یا سڑک 15سے 20فٹ مین گلی 25سے30فٹ مین اپروچ روڈ 50سے80فٹ مین شاہراہ50سے 100فٹ اور شہروں کو ملانے والی مین ہائی ویز 200سے 300فٹ ہیں
٭۔۔۔۔۔آ ج کی ترقی یافتہ ہاؤنگ سوسائٹیز یا ہا ؤسنگ اتھارٹیز یا نئے تعمیر کیے جانے والے شہروں کو دیکھا جائے توآپ کے زمانے میں بنائے گئے قواعد کو نقطہ آغاز بنایا گیااس کے علاوہ مسجد کی پارکنگ اور کمرشل ایریا اور اُن کی پارکنگ ایرا چھوڑنے کے بارے میں گھوڑاباندھنے اور خریدوفرخت کے لئے آنے والوں کے لئے جگہ چھوڑنے کا نظام تشکیل دیا گیا۔
٭۔۔۔۔۔سامان تجارت اور تجارتی فروخت کے لئے مسافرگاہیں قیام گاہیں اور سکیورٹی کا نظام تجارتی قوانین اور ہر قسم کے سامان کیلئے علیحدہ بازار اور منڈیوں کے لئے جدید ترین نظام کی بنیاد رکھی گئی۔
٭۔۔۔۔۔فاروق ا ِعظم کے دور میں مجلس شوریٰ تشکیل دی گئی اور مشاورتی نظام کے ذریعے ضروری امور کے لیے مشاورت تشکیل دی گئی۔
٭۔۔۔۔۔آمدو رفت کی آزادی اور انفرادی ملکیت کی آزادی ء رائے حاکم وقت کی اصلاح کرنے کی اجازت کا نظام تشکیل دیا گیا۔
٭۔۔۔۔۔عہد فارقی میں نظام عدل تشکیل دیا گیا نظام عدلیہ کے اصول ضوابط قا ضیوں کے اوصاف یعنی کہ پورا عدالتی نظام تشکیل دیا گیا۔
٭۔۔۔۔۔نظام احتساب،محکمہ پو لیس اور فوج علمی سرگر میوں کا آغاز گورنر اور اس سے مطلقہ نظام کا آغاز، داخلی و خارجی تعمیرات، دیوان کی تعمیر، بیت المال کا قیام،سڑکوں کی تعمیر،نہروں کی کھدائی،نہری اور دریا ئی راستوں پر ُپلوں کی تعمیر، مختلف شہروں کی تعمیر، زرعی اور آبپاشی نظام کی تشکیل دی۔
٭۔۔۔۔۔تعمیراتی قوانین، ڈویلپمنٹ اور ٹاؤن پلاننگ کے قوانین مرتب کیئے گیے آپ نے فرمایا کہ کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کو تعمیر اور ڈیزائن کرتے ہوئے مسجد اس کے درمیان میں تعمیرکے سلسے میں فاروق ِ اعظم نے فرمایا کہ کسی بھی آبادی،قصبہ اور گاؤن سو سائٹی کو ڈیزائین کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ مسجد درمیان میں بنائی جائے اور ایک تیر انداز درمیان میں کھڑا ہو کر چاروں اطراف میں تیر پھینکے اور اور جس چاروں اطراف میں جہاں تیر پیوست ہو اس علاقے پر مسجد تعمیر کی جائے،(آج کے حساب سے مسجد کا ایریا 4سے 8کنال بنتا ہے)جامعہ مساجد اور سیکٹرمساجدکی تعمیر کے بائی لاز مساجد کا آپس میں فاصلہ،نمازیوں کا بر وقت نماز میں پہنچنے کے پیمائش اور قوائیدو ضوابط تشکیل دیئے گئے۔
عہد فاروقی میں مساجد کی تعمیر۔
مفتوحہ علاقوں میں مساجد کی تعمیر:
امیر المؤمنین حضرت سیدناعمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں سب سے زیادہ مساجد کی تعمیر ہوئی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ جو بھی علاقہ فتح ہوتا آپ سب سے پہلے اُس علاقے میں مسجد کی تعمیر کا حکم دیتے،بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ضرورت کے پیش نظر بعض بڑے علاقے میں کئی کئی مساجد کی تعمیر ہوتی،یوں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جتنے علاقے فتح ہوئے اُس سے کہیں زیادہ مساجد بنائی گئیں۔
اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ تعالیٰ علیہ کی تصریح کے مطابق عہدفارقی میں کم وپیش چار ہزار مساجد تعمیر کی گئی۔
عہد فاروقی میں جامعہ مسجد کا قیام:
ان تمام مساجد میں اکثریت اُن مساجد کی ہے جن میں فقط نماز وغیرہ عبادات کا ہی اہتما م ہوتا تھا،انہیں کسی اور دینی معاملے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی جمعہ وعیدین کی نمازیں ان مساجد میں ہوتی تھی،جبکہ کئی ایک بڑی مساجد ایسی بھی تھیں جنہیں جامعہ مسجد کی حیثیت حاصل تھی کہ تمام لوگ نماز عیدین کے لئے اُنہی مساجد میں آتے اور اجتماعی طور پر جمعہ اور عیدین کی نماز ادا کرتے۔سیدنا فاروقِاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مساجد کی تعمیر کا خصوصی حکم ارشاد فرمایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں